بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ڈاکٹر رابرٹ پیپ، شکاگو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر، کہتے ہیں: اگر یہ صورتحال مستحکم ہو جائے اور ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھے، تو اس کے نتائج متحدالمرکز دائروں کے ایک سلسلے کی طرح پھیلیں گے، یہاں تک کہ ایران دنیا کی طاقت کا چوتھا مرکز بن جائے گا۔
ان کا کہنا تھا: یہ ایک حیران کن تبدیلی ہے۔ آبنائے ہرمز میں خلل نے امریکیوں کی زندگی کو اس طرح سے تہہ و بالا کر دیا ہے، کہ 1991 سے اب تک کی کوئی بھی طویل جنگ اس پر ایسا اثر نہیں ڈال سکی تھی۔
ویڈیو کی تفصیل:
اگر موجودہ صورت حال مستحکم ہو جائے اور ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول محفوظ رکھ سکے تو اس کے نتائج متحد المرکز دائروں کی طرح پھیل جائیں گے، یہاں تک کہ ایران دنیا کی طاقت کا چوتھا مرکز بن جائے۔ یہ ایک حیرت انگیز پیشرفت ہے۔
امریکہ ـ کم از کم کاغذ کے اوپر ـ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے طور باقی رہے گا۔ اس کے بعد چین اور پھر روس ہیں۔
لیکن ایران ـ ایک کمزور ملک کی پوزیشن سے، یا ایسے ملک کی سطح سے ـ جس کو [امریکی-صہیونی حلقوں کے مطابق] مشرق وسطی کا زوال پذیر ملک سمجھا جاتا تھا، ترقی کرکے دنیا کی طاقت کا چوتھا مرکز بن جائے گا۔
ایران اس صورت میں بھارت، پاکستان اور برازیل سے زیادہ طاقتور ملک بن جائے گا۔
یہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بہت بڑی منتقلی [Wider shift] ہے۔
یہ تمام واقعات 28 فروری سے یکم مارچ تک [صرف چوبیس گھنٹوں میں] رونما ہو گئے۔
اس مسئلے پر غور کریں! ایسا واقعہ تاریخ میں کبھی رونما نہیں ہؤا ہے۔
ہم نے اس سے پہلے بھی دیکھا ہےکہ کچھ طاقتیں علاقائی طاقت یا کسی حد تک طاقتور ملک کی سطح سے ترقی کرکے بڑی طاقتیں بن گئی ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ان تبدیلیوں میں جغرافیے کا بھی کردار رہا ہے، ٹیکنالوجی کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ لیکن یہ کہ اس طرح کی عظیم تبدیلی پلک جھپکنے میں وقوع پذیر ہوجائے، یہ حقیقتاً حیرت انگیز ہے۔
یہ جنگ ممکن ہے کہ آخرکار رہائش کے بحران یا کووڈ (کورونا) کے بحران سے مماثلت پیدا کرے۔
کم از کم حال حاضر میں، اس جنگ کی صورت حال سابقہ جنگوں سے کسی قسم کی شباہت نہیں رکھتی۔
آبنائے ہرمز میں خلل نے، اس انداز سے امریکیوں کی زندگی کو تہہ و بالا کر دیا ہے سنہ 1991 سے اب تک لڑی جانی والی کوئی بھی طویل جنگ اس طرح کے اثرات کا باعث نہیں بنی تھی۔
یہ بہت بڑی تبدیلی ہے، میں اس نکتے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ آپ نے درست اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا۔ اس جنگ نے امریکی عوام کی زندگی پر براہ راست اثر ڈالا ہے اور یہ ایک مختلف اور اہم مسئلہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ